عرب ممالک میں طلاق کے بڑھتے ہوےٓ روجہان کی وجہ سامنے آ گیٓ

ابوظہبی : عرب ممالک میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ہر کسی کو پریشان کررکھا ہے اور سرکاری عمال سے لے کر سماجی ماہرین تک ہر کوئی اس مسئلے کے حل کی تلاش میں ہے۔ ابوظہبی کے حکام نے بھی گھریلو تنازعات کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہرا غوروفکر کیا ہے، جس کے بعد یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ بیگمات کے حد سے بڑھتے ہوئے مطالبات اور شوہروں کی ان مطالبات کو پور ا کرنے میں ناکامی گھریلو مسائل کی اصل وجہ بن چکی ہے۔ گلف نیوز کے مطابق ابوظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے شعبہ فیملی پراسیکیوشن کے مطابق خواتین کے مطالبات بہت بڑھ گئے ہیں جبکہ مرد ان مطالبات کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہے، جس کی وجہ سے وہ گالم گلوچ اور بعض اوقات تشدد پر بھی اترآتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق 2015ءمیں جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ میں دائر کئے گئے مقدمات میں سے 33 فیصد گھریلو جھگڑوں کے تھے، جبکہ 2016ءمیں یہ تعداد بڑھ کر 34 فیصد ہوگئی۔ جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ نے گھریلو جھگڑوں میں مصالحت اور معاملات کی اصلاح کے لئے ایک باقاعدہ پروگرام بھی شروع کررکھا ہے جس کے مثبت نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ فیملی پراسیکیوشن شعبے کی ڈائریکٹر عالیہ محمد علی کعبی کا کہنا تھا کہ ہم جوڑوں کو یہ آگاہی فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے قانونی معاونت حاصل کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے شکار جوڑوں کو متعلقہ حکام سے ضرور رابطہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ گزشتہ سال فیملی پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے 242جوڑوں کے جھگڑوں کا تصفیہ کروایا، جبکہ 2015ءمیں یہ تعداد 155تھی۔ فیملی پراسیکیوشن کے شعبے نے ان جھگڑوں کا تصفیہ میاں بیوی کے قریبی افراد کی مدد، اور قانونی و سماجی تعاون کے ذریعے کیا۔

یہ بھی پڑھیں

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

واشنگٹن: امریکا کے قائم مقام قومی سلامتی کے سربراہ کیون مک الینن نے اپنی تعیناتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے