خیبر پختونخوا کے بے روزگار انجینئرز سڑکوں پر

پشاور سمیت خیبر پختونخوا بھر کے انجینئرنگ یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل طلباء نے انٹرنشپ اور ملازمتوں کے مواقعوں کی عدم فراہمی پر حکومت کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پاک ایمبیشیس گیلڈ آف انجینئرز نامی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ اس احتجاجی مظاہرے میں شریک بے روزگار انجینئرز نے ہاتھوں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے انجینئرز کیلئے انٹرنشپ، ملازمت، زیر ملازمت انجینئرز کیلئے دیگر ملازمین کی طرح سروس سٹرکچر، انکریمنٹ اور دیگر الاؤنسز کی فراہمی کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے ایک ہفتہ قبل ضلع چارسدہ میں بے روزگاری کے باعث خودکشی کرنے والے انجینئر اعزاز علی کی تصویریں بھی ہاتھوں میں اٹھائی ہوئی تھیں۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر عامر خان اور دیگر کا کہنا تھا کہ میکینکل انجینئر اعزاز علی کی بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی پر روزگار سے محروم نوجوان انجینئرز میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے، ان کی خودکشی صوبائی حکومت اور انجینئرنگ کونسل کی لاپرواہی اور غفلت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ نوجوان تعلیم کے حصول کے بعد بے روزگار پھرتے ہیں، جس کے باعث ملک میں بے روزگار تعلیم یافتہ طبقے میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جبکہ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے اس حوالے سے کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں انجینئرز ملامت کیلئے دربدر کی ٹوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جن میں کئی انجینئرز نے گھر اور ملک کو چھوڑ کر بیرون ممالک کا رخ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف اداروں کے حکام بڑی بڑی تنخواہیں تو لے رہے ہیں لیکن نوجوان طبقے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر محکموں کی طرح انجینئرز کو بھی سروس سٹرکچر، ملازمتوں کے مواقعے، انکریمنٹ، الاؤنسز اور فارغ ہونیوالے انجینئرز کیلئے انٹرنشپ کا اعلان کیا جائے تاکہ کوئی اور انجینئر اعزاز علی کی طرح بے روزگاری سے تنگ ہوکر خودکشی پر مجبور نہ ہو۔ مظاہرین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو مظاہروں کا سلسلہ بڑھا کر گورنر ہاؤس، وزیراعلٰی ہاؤس، صوبائی و وفاقی اسمبلیوں اور پشاور ہائی کورٹ کے سامنے دھرنے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی, منصوبہ 30 جون تک, بھی مکمل نہیں, ہو سکتا

بی آر ٹی منصوبہ 30 جون تک بھی مکمل نہیں ہو سکتا

پشاور: بار بار تاریخوں کے باوجود مکمل نہ ہونے اور تعمیراتی کام میں سست روی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے