کاتالونیا نے اسپین سے علیحدگی کااعلان کردیا

میڈریڈ: اسپین کےنیم خودمختار علاقےکاتالونیا نے ہسپانیہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کاتالونیا کی پارلیمنٹ نے اسپین کی مرکزی حکومت اور وفاق سے الگ ہونے کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ کاتالونیا کے علاقائی قانون ساز ادارے میں اسپین سے علیحدہ ہونے کی قرار داد پیش کی گئی ۔70رکنی پارلیمنٹ میں صرف 10ارکان نے علیحدگی کی مخالفت جب کہ 2ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ رائے شماری ایسے وقت میں کی گئی جب میڈرڈ حکومت کاتالونیا میں براہ راست مداخلت کرکے وفاق کی وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکمت عملی بنارہی تھی۔ دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کاتالونیا میں قانون اور جمہوریت کو بحال کرانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے گی۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو کاتالونیا میں اسپین سے آزادی کے لیے ریفرنڈم میں 90فیصد افراد نے آزاد ریاست کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کاتالونیا کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اسپین کی حکومت سے علیحدگی کے حوالے سے مذاکرات میں مدد کرے بصورت دیگر وہ یکطرفہ طور پر اسپین سے علیحدگی اور آزادی کا اعلان کرسکتی ہے۔
اسپین کی حکومت اور سپریم کورٹ نے اس استصواب رائے کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے بعد ہسپانوی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ریفرنڈم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی اور پولنگ اسٹیشنز کو بند کرکے وہاں موجود ووٹرز کو منشتر کرنے کے لیے ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 900 سے زائد افراد زخمی ہوگئےتھے۔ کاتالونیا اسپین کا شمال مشرقی حصہ ہے جسے نیم خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہے یہاں کی کل آبادی 75 لاکھ ہے اور نسبتاً یہ علاقہ اسپین کے دیگر شہروں سے زیادہ خوشحال ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فتح اللہ گولن سے تعلق کا شبہ، 128 ترک فوجیوں کی گرفتاری کے احکامات جاری

فتح اللہ گولن سے تعلق کا شبہ، 128 ترک فوجیوں کی گرفتاری کے احکامات جاری

انقرہ: ترک حکام نے جلا وطن مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی جماعت سے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے