توہین عدالت کیس، عمران خان کی معافی قبول، مقدمہ خارج

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے توہین عدالت کیس میں عمران خان کی غیر مشروط معافی کو قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک مقدمہ ختم کردیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کررہا ہے اور عمران خان الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوگئے، ان کے ہمراہ جہانگیر ترین، فواد چوہدری اور شفقت محمود بھی ہیں۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے موکل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان الیکشن کمیشن سمیت تمام آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہائی کورٹ سے وارنٹ گرفتاری معطل ہونے کے باوجود عمران خان پیش ہوئے، پارلیمانی کمیٹی میں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی خودمختاری کے لئے ہرممکن کوشش کی، ایک نکتے کے علاوہ انتخابی اصلاحات کا بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ عمران خان نے 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ کی جانب سے کمیشن کے قیام کے ساتھ ہی احتجاج ختم کردیا، پی ٹی آئی نے عوام کو اکٹھے ہونے کی کال دی تو سپریم کورٹ نے نوٹس لیا، پاناماکیس کی سماعت کے اعلان کے ساتھ ہی عمران خان نے کال واپس لے لی۔

رکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے موکل غیرمشروط معافی مانگنے کو تیار ہیں، جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ہم دو مرتبہ پہلے معافی مانگ چکے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جمع کرائی گئی دستاویز عمران خان کو دکھائی ہیں۔ کیا جواب واپس لینے سے توہین آمیز الفاظ بھی واپس ہو جاتے ہیں۔ عمران خان سے دوسری درخواست پر جواب مانگا گیا تھا وہ کہاں ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے بابر اعوان کی استدعا کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے استدلال دیا کہ آج اہم دن ہے کہ عمران خان الیکشن کمیشن میں پیش ہوگئے ہیں، معاملہ ختم کرنے یا نہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی کا طریقہ کار دے رکھا ہے، توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کے لئے متعلقہ فریق کو ندامت کا اظہار کرنا چاہئے، عمران خان نے تحریری طور پر الیکشن کمیشن کی توہین کی دیکھا جائے کہ کیا انہوں نے توہین آمیز الفاظ پر معافی مانگی،20 ستمبر کو کراچی میں عمران خان کا دیا گیا بیان الگ معاملہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کنے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ کیا آپ ٹرائل کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔ توہین عدالت کی کارروائی میں اتنی لمبی بحث نہیں ہوتی، آپ کہتے ہیں کہ توہین عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے، آپ کے جواب میں کیا ایک لفظ بھی ایسا ہے جس میں ندامت کا اظہار ہو۔ الیکشن کمیشن کو متعصب کہنے پر توہین عدالت کا مقدمہ ختم کرتے ہیں، کراچی میں توہین آمیز الفاظ پر جواب سے مطمئن نہیں، اگر دوسرے کیس میں یہی جواب ہے تو فردم جرم عائد کی جائے گی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے کیس کی گزشتہ سماعت پرعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیےتھے۔

یہ بھی پڑھیں

مولانا صاحب مارچ کشمیریوں کی آزادی کے لئے کریں، چوروں کی آزادی کے لیے نہیں

مولانا صاحب مارچ کشمیریوں کی آزادی کے لئے کریں، چوروں کی آزادی کے لیے نہیں

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان وزرا کالونی کے گھر کے لیے اسلام آباد کو لاک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے