افغان صدر کا نئی دلی میں پاکستان مخالف بیان، سی پیک منصوبے پر بڑی بات کردی

نئی دہلی: افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس وقت تک پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ نہیں بنے گا جبکہ پاکستان انہیں بھارت کی سرحدوں، واہگہ اور اطاری تک رسائی نہیں دے گا۔ ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں ویویکانندا انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اگر سی پیک کے ذریعے بھارت تک رسائی نہیں دی گئی تو کابل پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی کو روک دے گا۔
یاد رہے کہ یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے عمان کے شہر مسقط میں افغان طالبان سے امن مذاکرات کی بحالی کے لیے افغانستان، امریکا، چین اور پاکستان کے حکام نے ملاقات کی تھی۔ ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو لوجسٹکس سمیت دیگر بنیادی معلومات فراہم کردی گئی ہیں اب پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے اور ہمارا رد عمل پاکستان کے فیصلے پر انحصار کرتا ہے۔
رپورٹ میں اشرف غنی کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے امریکا کی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے کردار پر بات چیت کو خوش آمدید کہا۔ اشرف غنی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی کو خطے کے لیے ’گیم چینجر‘ قرار دیا جیسا کہ وہ ’خطے میں مختلف کثیر جہتی حالت پر مبنی نقطہ نظر کی تجویر دیتے ہیں‘۔ افغان صدر نے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کے دورہ افغانستان کے بعد بھارت کا دورہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی عرب اور امارات اپنے شہریوں کی جاسوسی کر رہے ہیں، اقوام متحدہ

سعودی عرب اور امارات اپنے شہریوں کی جاسوسی کر رہے ہیں، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے