عسکریت پسندوں کی دھمکی کے بعد بلوچستان میں اخبارات کی ترسیل بند

کوئٹہ: بلوچستان بھر میں اخباروں کی ترسیل منگل کے روز مکمل طور پر بند رہی۔ رواں ماہ میں تین مسلح آزادی پسند تنظیموں بی ایل ایف، بی ایل اے اور یو بی اے نے بلوچستان میں میڈیا کے جانبدارانہ کردار سے متعلق نیوز ایجنسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے اپیل بھی کی کہ وہ بلوچستان میں اپنے یک طرفہ رویئے کو سدھاریں اور صرف ریاستی تشہیری ادارے بننے کی بجائے غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔ بلوچستان میں ہونے والے ظلم و جبر اور حقیقی حالات کو بھی عوام و دنیا کے سامنے بیان کریں۔ چند روز قبل بلوچ عسکریت پسند تنظیم بی ایل ایف نے بیان جاری کرتے ہوئے میڈیا کو 24 اکتوبر تک کا الٹی میٹم دیا تھا اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں بلوچستان میں اخباروں کی ترسیل بند کرانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ بعدازاں بلوچستان کے الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا ہاوسز کی جانب سے کوئی خاطر خواہ عمل و جواب سامنے نہ آنے کی صورت میں مسلح تنظیموں کی جانب سے گزشتہ دنوں بلوچستان کے تمام علاقوں میں دوبارہ پمفلٹ تقسیم کئے گئے، جس میں عوام اور ٹرانسپورٹ ذرائع سے بایئکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔ یاد رہے مسلح تنظیمیں اس سے پہلے بھی اخبارات کا بائیکاٹ کرتی تھیں۔ تاہم وہ علامتی ہوتا تھا اور ان کی تھوڑی بہت خبریں شائع ہوجاتی تھیں۔ لیکن اب تو ان کی خبریں بالکل ہی بند ہیں۔ ان تنظیموں کی جو پریس ریلیز آتی تھی وہ غیر واضح جگہ پر شائع ہوتی تھیں، لیکن حکومت نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بعد میڈیا میں بلوچ عسکریت پسندوں کو کوریج دینے کا سلسلہ بند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ملک, بھر میں, نیشنل ایکشن پلان, پر عمل درآمد ہوا, ہے

ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوا ہے

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کے بعد کوئٹہ پہنچنے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے