مسئلہ بلوچستان کا واحد حل سیاسی مذاکرات میں ہے، میر حاصل خان بزنجو

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل سیاسی مذاکرات میں ہے۔ مذاکرات کے ذریعے ہی ہم بلوچستان کے سیاسی و قومی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونگے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی 28ویں برسی اور صد سالہ تقریبات کے حوالے سے کوئٹہ شاہوانی اسٹیڈیم سریاب میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ نیشنل پارٹی پاکستان میں جمہوریت و پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہے اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے ہرگز نہیں دے گی۔ بعض لوگ اس کوشش میں ہیں کہ اداروں کے درمیان تصادم ہو، تاکہ وہ اسکا فائدہ اٹھا سکیں۔ ہم ان لوگوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نیشنل پارٹی پاکستان میں جمہوریت کے خلاف ہونے والی کسی غیر جمہوری اقدام کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ نیشنل پارٹی پاکستان میں جمہوریت و پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے نہیں دے گی۔ بدقسمتی سے بلوچ قوم کے حقوق کے وہ عناصر دعوے کر رہے ہیں، جنہوں نے آمریت کے دور میں بلوچوں کو آگ اور خون کی دلدل میں دھکیل دیا۔ بلوچ نوجوانوں کو تعلیم، ٹیکنالوجی سے دور کر دیا۔ آج بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار سابق آمر کے دور حکمرانی میں اقتدار کے مزے لینے والے ہیں۔ حقیقی سیاسی جماعت ہی قوموں کو بہتر مستقبل دے سکتی ہے اور نیشنل پارٹی واحد قومی جماعت ہے، جو بلوچ اور بلوچستان کے عوام کو انکے حقوق دلا سکتی ہے۔

جلسے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و سابق وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جلسہ کی کامیابی عظیم قومی رہنماء کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ جو یوسف عزیز مگسی، میر غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر، محمد حسین عنقا، مولا بخش دشتی، فدا احمد شہید، ڈاکٹر یاسین شہید، شہید میر عبدالخالق لانگو، ڈاکٹر شفیع بلوچ اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کی بے لوث جدوجہد کا ثمر ہے۔ وزارتیں آنی جانی ہیں، نظریاتی کارکن سیاسی تنظیم کاری پر توجہ دیں اور سماج کو ظلم و جبر سے نکالنے میں عوام کی قیادت کریں۔ 2018ء کے انتخابات کارکنوں کے لئے بڑا چیلنج ہیں اور انتخابات میں بھر پور کامیابی کو ہدف بناکر فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنا قومی کردار ادا کرتے ہوئے 2018ء کے انتخابات میں پارٹی کو بلوچستان اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بنائیں۔ واضح اکثریت کے بغیر یہاں کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ نیشنل پارٹی نے بلوچستان کے ساحل و وسائل کے تحفظ کیلئے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ آئندہ کریگی۔ سابقہ ادوار میں گوادر کے عوام سے انکی اپنی اراضی چھین کر بندر بانٹ کی گئی، لیکن نیشنل پارٹی نے ان طاقتور مافیا کو الاٹمنٹ کی گئی زمین کو واپس لیکر ان کے اصل مالکان کے حوالے کیا۔

یہ بھی پڑھیں

کوئٹہ, میں شدید ,بارش اور, سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا, دھرنا چوتھے, روز بھی, جاری

کوئٹہ میں شدید بارش اور سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری

کوئٹہ: جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے