بلوچستان اسمبلی میں دہشتگردی کی وارداتوں کیخلاف مذمتی قرار داد منظور

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں کوئٹہ، گوادر، مستونگ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر واقعات میں جاں بحق ہونے والے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اپوزیشن رکن اسمبلی شاہدہ روف نے کوئٹہ گوادر اور مستونگ میں ہونیوالے واقعات کے پیش نظر ایوان میں تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بڑے سانحات رونما ہوئے اور ان واقعات کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہے۔ حکومت کی طرف سے مذمت کرنا باعث شرم ہے۔ حکومت کے پاس ایگزیکٹو پاور ہے، مگر اس کے باوجود حکومت بے حسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ حکومت کی نا اہلی ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف مذمت کریں۔ کابینہ کے اجلاس میں امن و امان کے مسئلے کو اٹھایا جائے مگر وہ بھی کابینہ میں نہیں اٹھایا جاسکتا۔ سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ مستونگ، گوادر اور کوئٹہ میں واقعات ہوئے اور یہ واقعات اس لئے ہو رہے ہیں کہ ہم حالت جنگ میں ہے۔ قرارداد کے بعد تحریک التواء کی ضرورت نہیں ہے۔ امن و امان کے حوالے سے تمام تر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو عوامی نمائندے فوٹو سیشن کے لئے نہیں جاتے، بلکہ اس لئے جاتے ہیں کہ عوام کو حساس ہو کہ ہمارے نمائندے ہمارے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وہاں خطرہ بھی ہوتا ہے، مگر تمام تر حالات کے باوجود وزراء جاتے ہیں۔ تحریک التواء کو رائے لینے کے بعد نامنظور کرلی گئی۔ اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے مشترکہ مذمتی قرار داد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ سبی روڈ علاقہ سریاب میں پولیس ٹرک پر خودکش کار حملے اور قمبرانی روڈ پر پولیس انسپکٹر عبدالسلام کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

قرار داد میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے دہشتگردوں کیخلاف قوم عزم و حوصلے کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہے اور سی پیک کی وجہ سے دنیا کی نظریں ہماری طرف مرکوز ہے۔ بلوچستان کو میدان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ افغانستان میں جو بھی واقعات رونماء ہوتے ہیں، دنیا وہ تمام تر واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہیں، کیونکہ وہ پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک کے باسی ہے اور کسی کے بھی اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے۔ بلوچستان ضرور ترقی کرے گا اور دشمن قوتوں کے عزائم کو خاک میں ملا دینگے۔ سابق وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ جب ہم نے حکومت سنبھالا تو پہلا واقعہ وویمن یونیورسٹی میں ہوا اور جب ہم واقعہ دیکھنے پہنچے تو ہمیں گیٹ پر سکیورٹی وجوہات کی بناء پر روکا گیا۔ اسی دوران دوسرے دھماکے میں ڈپٹی کمشنر صاحب شہید ہوگئے۔ جو بھیانک صورتحال تھی اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ جنگ ہے۔ آج ہم سب اس سے متاثر ہے۔ فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے پولیس پر دہشتگرد حملہ آور ہو رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے اب تک 35 عہدیداران اور کارکنوں کو شہید کیا گیا ہیں۔ گزشتہ روز ہماری پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ محفوظ رہے۔ اس وقت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا اور خارجہ پالیسی کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت اور عدلیہ کی بالادستی کیلئے کھڑے ہیں اور جو بھی پارلیمنٹ کے ساتھ زیادتی کرے گا، ہم ان کی مخالفت کرینگے۔ خدشہ ہے کہ آگے چل کر بلوچستان میں اس سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال ہوگی۔ اجلاس کو 24 اکتوبر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

کوئی غیر ملکی کمپنی بلوچستان میں ایک انچ بھی زمین نہیں خرید سکتی

کوئی غیر ملکی کمپنی بلوچستان میں ایک انچ بھی زمین نہیں خرید سکتی

کوئٹہ: ثنا بلوچ اور دیگر اراکین نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ منتخب اراکین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے