امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کو پاکستانی شہریوں کی نجی زندگی تک رسائی کا انکشاف

اسلام آباد:  امریکی خفیہ ایجنسی "ایف بی آئی” پاکستانی شہریوں کے گھروں تک پہنچ گئی۔ ایف بی آئی نے پاکستانی ایجنسی "ایف آئی اے” کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن  میں 4 پاکستانی نوجوان "بلیو وہیل” طرز کی گیم کھیل رہے ہیں اور اس کے متعدد ٹاسک پورے کر چکے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق انہیں امریکی ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا کہ جوہر ٹاؤن میں عثمان نامی نوجوان انٹرنیٹ گیم کے ذریعے دیگر 4 نوجوانوں کو مختلف ٹاسک دے رہا ہے۔ نوجوانوں نے اغواء اور تشدد جیسے ٹاسک پورے کر لئے ہیں جبکہ یہ ٹاسک آہستہ آہستہ خودکشی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آخری ٹاسک خودسوزی ہوگا۔ ایف بی آئی کے مطابق انہوں نے ان نوجوانوں کو "سنیپ چیٹ” کے ذریعے ٹریس کیا۔

ایف بی آئی کی جانب سے خط ملنے پر ایف آئی اے نے جوہر ٹاؤن سے عثمان نامی نوجوان کو ٹریس کر لیا جبکہ دیگر 4 لڑکوں کی تلاش جاری ہے، جو عثمان کے بتائے ہوئے ٹاسک پر عمل پیرا تھے۔ ایف آئی اے نے عثمان کے گھر سے لیپ ٹاپ اور انٹر نیٹ ڈیوائس بھی قبضے میں لے لی ہے۔ ایف آئی اے نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید جاوید حسن اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب عوامی حلقوں نے ایف بی آئی کی شہریوں کے گھروں میں ذاتی زندگی تک رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آئی اس طرح ہماری نجی زندگی میں مداخلت کرتی رہی تو یہ انتہائی خطرناک بات ہوگی۔ عوامی حلقوں نے پاکستانی سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آئی کی پاکستانی عوام کی نجی زندگی تک رسائی روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری شہید کر دیے

بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیری شہید کر دیے

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری اور قابض بھارتی  فوج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے