محکمہ داخلہ پنجاب نے حساس اور مذہبی موضوعات پر مناظروں پر پابندی لگا دی

لاہور: مذہبی گروہوں کے رہنماؤں کی جانب سے حساس معاملات پر مناظرے یا مباحثے کا معاملہ، محکمہ داخلہ نے حساس مذہبی موضوعات پر گفتگو پر ایک ماہ کیلئے پابندی لگا دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن میں شہر میں حساس مذہبی موضوعات پر ہر طرح کے مباحثے، مناظرے اور گفتگو پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کچھ مذہبی گروہ اور ان کے رہنما شہر میں حساس مذہبی موضوعات پر مناظرے اور مباحثے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 11 اکتوبر سے 9 نومبر تک ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے داروں کو کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے حلف سے ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کے حوالے سے جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد میر کو مناظرے کا چیلنج کیا ہوا تھا۔ یہ مناظرہ آج لاہور پریس کلب میں ہونا تھا جس کے باعث پابندی لگا دی گئی ہے۔ پابندی لگائے جانے پر تحریک لبیک یارسول اللہ کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی نے "اسلام ٹائمز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علامہ ساجد میر مناظرے سے راہ فرار اختیار کررہے تھے جبکہ کچھ بن نہ پڑا تو دفعہ 144 کا نفاذ کروا کر راہ فرار اختیار کرگئے ہیں۔ اعجاز اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی مناظرے کیلئے تیار ہیں، علامہ ساجد میر اگر آمادہ ہیں تو یہ مناظرہ لاہور سے باہر بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت

رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت

لاہور: مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو جوڈیشل ریمانڈ ختم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے