خواتین کی چٹیا کاٹنے کے واقعات، مظاہرین پہ بھارتی فوج کا تشدد

سری نگر:  مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی پُراسرار گیسو تراشی کے خلاف شہر کے بمنہ، بٹہ مالو، بابہ ڈیمب اور سانبورہ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ فورسز اور پولیس نے بمنہ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس شلنگ کی۔ بٹہ مالو میں مظاہرین نے پولیس پر اُس وقت پتھراﺅ کیا، جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ ادھر گاندربل میں تین مہمانوں کو گیسو تراش سمجھ کر ان کی شدید پٹائی کی گئی۔ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن نے بھی خواتین کی جبری مو تراشی کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مارچ کیا۔ نامعلوم افراد کی طرف سے خواتین کی جبری بال تراشی کے نہ تھمنے والے سلسلے کے دوران شہر کے ایس ڈی کالونی بٹہ مالو علاقے میں مبینہ بال تراشی کا واقعہ پیش آیا، جس دوران ایک تیرہ سالہ دوشیزہ کی چوٹی کاٹی گئی۔ بٹہ مالو میں یہ پراسرار طریقے سے بال کاٹنے کا چوتھا واقعہ ہے۔ واقعے کے خلاف لوگوں نے احتجاجی جلوس برآمد کئے اور نعرہ بازی کی، جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت بھی مسدود ہو کر رہ گئی۔ مظاہرین بال تراشوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے پولیس پر اُس وقت پتھراﺅکیا، جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

تنازعہ کشمیر کی بدولت پورا جنوبی ایشیا ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے، مسعود خان

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصمہ شاکر کی کتاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے