شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کاروائی، 4 طاقتور نصب شدہ بم برآمد

فاٹا: شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن میر علی میں سکیورٹی فورسز نے تخریب کاری کے دو بڑے منصوبے ناکام بناتے ہوئے 4 بموں کو برآمد کرکے ناکارہ بنا دیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے سزاء کے طور پر ملحقہ آبادی میں دکانوں او مارکیٹوں کو سیل کرنے کے علاوہ علاقہ مکینوں کے شناختی کارڈ او ڈومیسائل بنانے پر پابندی عائد کردی جبکہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار اور کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں بھی بند کر دی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ میر علی میں پل کے نیچھے مشکوک سامان پڑا ہے، جس پر انہوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کرلیا۔ جنہوں نے مشکوک سامان کو طاقتور بم قرار دے کر ناکارہ بنا دیا۔ دریں اثناء سکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل سکواڈ نے میرعلی کے ہی علاقے جیلر ذکر خیل میں روڈ کنارے نصب چوتھا بم بھی ناکارہ بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق پل کے نیچے سے برآمد ہونے والے بموں کی تعداد 3 تھی تاہم یہ واضح نہ ہوسکا کہ بموں کو پل اڑانے کے لئے نصب کیا گیا تھا یا سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لئے نصب کیا گیا تھا تاہم بموں کی برآمدگی کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ کامران علی کی ہدایت پر اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ میرعلی عرفان الدین نے مذکورہ علاقوں کے عوام کے شناختی کارڈ، کیریکٹر سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل بنانے پر پابندی عائد کردی اور اس پابندی کو ختم کرنے کے لئے آئندہ چند دنوں میں کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شناختی دستاویزات بنانے پر پابندی کے علاوہ ان علاقوں کے مکینوں کی مارکیٹوں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ گاڑیوں کے چلانے پر پابندی اور متعدد افراد کی گرفتاری کے ساتھ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاصہ دار اہلکاروں و کلاس فور ملازمین کی تنخواہیں بھی بند کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

آئین کے تحت مشیران اور, معاونِ خصوصی کو, حکومتی امور کے, اختیارات, نہیں دیے, جاسکتے

آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے

پشاور: جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے