عمران خان نااہلی کیس، جو ریکارڈ آپ کے حق میں ہو وہ مل جاتا ہے، دوسرا نہیں ملتا، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جہانگیرترین، عمران خان کی نااہلی کیلئے حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی، دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری روسٹر پر آئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جمائمہ کو 5 لاکھ 62 ہزار روپے کی رقم عمران خان نے ادا کی، دستاویز سے جمائمہ کو رقم وصولی ثابت ہوتی ہے، نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بنی گالہ اراضی کے نقشے کی رقم گوشواروں میں ظاہر کی، کیونکہ نقشہ مسترد ہونے پر نقشہ نویس نے رقم واپس کر دی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز شروع میں جمع کرا دیتے تو بہتر ہوتا، دوسری پارٹی کو دستاویز پر اعتراض اٹھانے کا موقع میسر آتا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے 2003ء سے2007ء تک گوشوارے ظاہر کئے؟۔

اس پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے 2008ء میں الیکشن میں حصہ نہیں لیا، 2008ء سے 2013ء تک عمران خان کے پاس کوئی عوامی نہیں تھا۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں رکھے ایک لاکھ پاؤنڈ عمران خان کے نہیں تھے، نیازی سروسز کے اکاؤنٹ کا مکمل ریکارڈ نہیں ملا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ریکارڈ آپ کے حق میں ہو وہ مل جاتا ہے، دوسرا نہیں ملتا۔ اس پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت متفرق درخواست پر نوٹس جاری کرے، میں جواب دوں گا، جس پر عدالت نے عمران خان کے جواب پر حنیف عباسی کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمانی, نظام میں بہت, سمجھوتے کرنا, پڑتے ہیں

پارلیمانی نظام میں بہت سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں

اسلام آباد: مؤثر حکومت کے لیے اہل لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کا اختیار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے