امریکی حکومت نے سعودی عرب کو میزائلوں سے دفاع کے لیے جدید نظام تھاڈ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: سعودی عرب کیلئے امریکی حکومت نے میزائلوں سے دفاع کے لیے جدید نظام تھاڈ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے سعودی عرب کو 15 ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم تھاڈ (THAAD) فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ روز یہ خبر آئی تھی کہ سعودی عرب نے روس سے ایس 400 طیارہ شکن نظام خریدنے کا معاہدہ کرلیا ہے، جسے دنیا کا خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اس خبر کے 24 گھنٹے بعد ہی پنٹاگون کی جانب سے سعودی عرب کو تھاڈ فراہم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ امریکی حکومت پچھلے کئی ماہ سے اس معاہدے کی منظوری میں تاخیر در تاخیر کررہی تھی۔ واضح رہے کہ تھاڈ یعنی تھیٹر ہائی آلٹی ٹیوڈ ایئر ڈیفنس نظام مختصر اور درمیانی رینج والے بیلسٹک میزائلوں کو راستے ہی میں مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ یہ اپنے ہدف کو 200 کلومیٹر دوری تک نشانہ بنا سکتا ہے۔ جدید ترین ریڈاروں سے لیس اس سسٹم میں کئی میزائل بیٹریاں نصب کی جاسکتی ہیں۔ پنٹاگون کے مطابق سعودی عرب سے کیے جانے والے اس معاہدے سے مشرق وسطی میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا جب کہ سعودی عرب کو جدید میزائل ڈیفنس سسٹم کی فروخت امریکا سعودی عرب میں دوستی کا ایک مظہر ہے اور اس معاہدے کا مقصد ایرانی خطرات سے اپنے دوست ملک کو محفوظ بنانا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے ایسا ہی ایک اور میزائل ڈیفنس سسٹم اس سال جنوبی کوریا میں نصب کیا تھا تاکہ اسے شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان: اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع

افغانستان: اشرف غنی کی مدت صدارت میں توسیع

افغانستان کی عدالت عالیہ نے آئندہ صدارتی انتخابات کے انعقاد تک محمد اشرف غنی کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے