نئی امریکی پالیسی میں بھارتی کردار پر تشویش ہے، وزیر دفاع

واشنگٹن: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نئے امریکی پالیسی میں بھارتی کردار پر تشویش ہے البتہ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا جب کہ بھارت کی ہر اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں امریکی اور غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے تو پاکستان خطے میں اپنے جائز سیکورٹی خدشات کو تسلیم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقیقی معنوں میں جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجی میں بھارتی کردار اور بلوچستان میں عدم استحکام کی غرض سے بھارتی کوششوں پر گہرے تحفظات ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا اسٹریٹجی کے اعلان کے بعد ٹیلرسن کے ساتھ ملاقات اہم رابطہ تھا۔ پاکستان امریکا کے ساتھ 7 دہائیوں پر محیط تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم باہمی عزت و احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک سیاسی اور سفارتی سطح پر مسلسل اورمنظم رابطوں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں امن،استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کیلئے ملکر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں کامیابیوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے اور جب تک افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں کیا جاتا خطے میں پائیدار امن و استحکام ممکن نہیں اور پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، اس مقصد کے حصول کیلئے امریکا اور پاکستان کو قریبی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے حصہ کا کام کرکے دہشت گردوں اور ریاست مخالف عناصر کے ٹھکانے ختم کر دیئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور سیکریٹری خارجہ نے کابل کے دورے کئے اور ان کی افغان صدر اشرف غنی اور دیگراعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کامیاب اور مفید رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر گہری تشویش ہے، حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشت گرد حملے انہیں علاقوں سے آپریٹ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے بارے میں بہت فکرمند ہے، دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں زیادہ تر افغانستان کے غیر منظم علاقوں میں ہیں جو ملک کا 40 فیصد سے زائد ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہم سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن صرف پاکستان کو مورد الزام ٹھرانا درست نہیں جب کہ طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور پر حملہ امن بات چیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھا، ڈرون حملے میں لیڈر کی موت کے بعد سے طالبان پر پاکستان کا اثر کم ہوا اور طالبان پر اتنا اثر نہیں رہا جتنا ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر سرجیکل حملے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے وزیردفاع نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں کوئی پاکستان سے صبروتحمل کی توقع نہ کرے اور ان حملوں کامنہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

اسلام آباد: عمران خان کا حوالہ دے کر حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’مولانا فضل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے