کراچی، علامہ حسن ظفر نقوی سمیت 4 افراد نے گرفتاری پیش کرکے جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا

کراچی:  ملت جعفریہ پاکستان نے گذشتہ کئی سالوں سے درجنوں لاپتہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف علامہ حسن ظفر نقوی سمیت 4 افراد نے ہزاروں افراد کے سامنے اپنی احتجاجاً گرفتاری پیش کرکے جیل بھرو تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ کئی سالوں سے درجنوں لاپتہ شیعہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف ملت جعفریہ نے کراچی سے جیل بھرو تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، پہلے مرحلے میں آج کراچی میں خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد کھارادر کے باہر بعد نماز جمعہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی نے لاپتہ ثمر عباس کے 90 سالہ بوڑھے والد علمدار حسین، تصور رضوی ایڈووکیٹ اور رضی حیدر رضوی کے ہمراہ ہزاروں احتجاجی شہریوں کی موجودگی میں احتجاجاً اپنی گرفتاری پیش کر دی ہے، جنہیں پولیس موبائل کے ذریعے بغدادی تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ایم ڈبلیو ایم سمیت ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے ملی تنظیموں کے کارکنان، رہنماؤں اور عمائدین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گرفتاری کے موقع پر مظاہرین میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مختار امامی، شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین، شیعہ علماء کونسل سندھ کے رہنماء یعقوب شہباز، پاسبان عزاء کے رہنماء راشد رضوی، ہیت آئمہ مساجد و آئمہ جمعہ کے رہنما مولانا حیدر عباس، مولانا عقیل موسٰی، ذاکرین امامیہ کے رہنماء علامہ نثار قلندری، پیام ولایت فاؤنڈیشن کے رہنما نثار شاہ جی، صغیر عابد رضوی، علامہ نشان حیدر، علامہ مبشر حسن، حسن رضا سہیل، مولانا صادق جعفری، شفقت لانگا، مہدی عابدی، حسن مہدی سمیت دیگر شیعہ تنظیموں کے رہنماء بھی موجود تھے۔

گرفتاری سے قبل علامہ حسن ظفر نقوی نے ہزاروں احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں چور، ڈاکو، بھتہ خور اور تاوان حاصل کرنے والوں کو تحفظ ہے، جبکہ مظلوم عوام در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محب وطن ملت جعفریہ نے کبھی بھی قانون ہاتھ میں نہیں لیا، جبکہ ہمیں آئین و قانون کی پاسداری کا درس دینے والے خود قانون و آئین کو پیروں تلے روند رہے ہیں۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ پاکستان میں جنگل کا قانون راج کر رہا ہے، بے گناہ شیعہ افراد کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، ریاستی ادارے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن ملت جعفریہ اپنے بے گناہ اسیروں کی بازیابی تک خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملت جعفرہ پُرامن لوگ ہیں، ہمارا موازنہ دہشتگردوں اور قاتلوں کے ساتھ نہ کیا جائے، ہماری وطن سے محبت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اس وطن کے بنانے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل بھرو تحریک پوری ملت جعفریہ کی تحریک ہے، جو لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی تک مسلسل جاری رہے گی، ہم اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، لیکن مقتدر ادارے بھی فقط زبانی کلامی وعدے کر رہے ہیں، اگر ہمارے افراد گناہ گار اور مجرم ہیں، تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اپنی چوریوں کو چھپانے کیلئے قانون و آئین میں ترمیم کر رہی ہیں، مظلوم بیس کروڑ عوام سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں، حکمران پاکستان سے زیادہ پاکستان دشمن قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور وفادار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سابق آئی جی غلام حیدر جمالی اور دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت

سابق آئی جی غلام حیدر جمالی اور دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت

کراچی: جسٹس کریم خان آغا نے اس موقع پر کہا کہ کچھ ملزمان کو انکوائری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے