انتخابی اصلاحات بل کیخلاف جمشید دستی بھی سپریم کورٹ جا پہنچے

اسلام آباد: انتخابی اصلاحات بل کے خلاف رکن قومی اسمبلی جمشید دستی بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ جمشید دستی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست کے بعد اس بل کے خلاف درخواستوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ جمشیددستی نے بھی انتخابی اصلاحات ایکٹ چیلنج کردیا ہے ، انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ انتخابی اصلاحات بل آئین کےخلاف ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید دستی نے کہا کہ قومی اسمبلی ایک چور کو سپورٹ کر رہی ہے ، سپریم کورٹ نا اہل شخص کی صدارت کو کالعدم کرے ، پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ قوم چوروں اور لٹیروں کا صفایا چاہتی ہے۔ علاوہ ازیں انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف سپریم کورٹ میں تیسری درخواست ایک عام شہری کی جانب سے آج ہی (جمعرات کو) دائر کی گئی جس میں اس نے موقف اپنایا کہ انتخابی اصلاحات بل آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ قانون عوامی مفاد کے بجائے ایک شخص کیلئے بنایا گیاشق 203 میں ترمیم سے عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

دہشتگردوں, نے, پاکستان کی, سرزمین, پرحملہ کیا

دہشتگردوں نے پاکستان کی سرزمین پرحملہ کیا

اسلام آباد: دہشتگردوں نے پاکستان کی سرزمین پرحملہ کیا، 18 اپریل کوسرحد پار سے 15 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے