2 ہفتوں میں ہمارے فنڈ واگزار نہ کئے گئے تو ہم اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے، پرویز خٹک

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے فنڈز اچانک روک لئے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے بھر میں ترقیاتی سکیموں پر کام بھی جمود کا شکار ہوا ہے اور عوامی اہمیت کے بیشتر منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں، طویل عرصہ سے دہشتگردی اور غربت و پسماندگی سے دو چار صوبے کے ساتھ اس طرح کا طرز عمل وفاق کو زیب نہیں دیتا بلکہ ہمیں اپنے وسائل پوری فراخدلی کے ساتھ اور وقت سے پہلے ملنے چاہئیں، اس لئے وفاق کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر آئندہ ایک دو ہفتوں میں ہمارے فنڈ واگزار نہ کئے گئے تو ہم اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہونگے، جس کے لئے اگر چہ وہ اکیلے ہی کافی ہیں مگر صوبے کی دوسری سیاسی قوتوں سے بھی یکجہتی کی اپیل کریں گے۔ دیر بالا سے 200 رکنی نمائندہ وفد سے پشاور میں ملاقات کے دوران وزیراعلٰی پرویز خٹک نے اعتراف کیا کہ ضلع دیر کو شروع دن سے پسماندہ رکھا گیا اور وہاں کے عوام جدید دور میں بھی مواصلات اور آبنوشی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ہم اپنے تمام وسائل وہاں کے عوام کی خوشحالی پر قربان کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم ہمارا بڑا مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے کیونکہ ہمیں اپنے 90 فیصد وسائل کیلئے وفاق کا محتاج بنایا گیا ہے، حالانکہ یہ ہمارا ہی اپنا حق ہے جبکہ باقی 10 فیصد وسائل اتنے بڑے صوبے کے لئے کافی نہیں، کیونکہ بدقسمتی سے صوبے کے بیشتر علاقے اور عوام پسماندگی کا شکار ہیں دوسری طرف حالت یہ ہے کہ صوبے کے 550 ارب روپے میں 450 ارب روپے حکومتی انتظامات اور تنخواہوں پر خرچ ہوتے ہیں اور باقی 110 ارب روپے کا اے ڈی پی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان وسائل میں بھی 30 ارب روپے سے زائد کے فنڈ بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کئے جبکہ باقی 80 ارب روپے سے تعلیم و صحت، مواصلات اور تعمیرات، توانائی، زراعت ، آبپاشی، صنعت و تجارت، سیاحت و آبنوشی اور کھیل و ثقافت سمیت دوسرے تمام محکموں اور اداروں کے ترقیاتی اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ترقیاتی فنڈز کی کمی کی وجہ سے صوبے کی 500 ارب روپے کی سینکڑوں بالکل تیار سکیمیں معرض التواء میں پڑی ہیں، تاہم وزیراعلٰی نے فنڈز کی دستیابی کی شرط پر نہاگ درہ شاہراہ کی ایک مہینے کے اندر جلد تعمیر کا اعلان کیا۔ پرویز خٹک نے اہل علاقہ کے مطالبہ پر شیرینگل روڈ کی تعمیر میں گھپلوں کی شکایات پر انکوائری کا حکم بھی جاری کیا اور انکشاف کیا کہ وہ 8 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے ہمراہ دورہ بونیر کے فوراً بعد دیر بالا کا دورہ بھی کریں گے، جس میں لرجم تحصیل کا اعلان بھی متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں

آئین کے تحت مشیران اور, معاونِ خصوصی کو, حکومتی امور کے, اختیارات, نہیں دیے, جاسکتے

آئین کے تحت مشیران اور معاونِ خصوصی کو حکومتی امور کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے

پشاور: جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے