بھارت میں سیاحتی کتابچے سے تاج محل کا نام خارج

آگرہ: بھارتی ریاست اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے سیاحتی کتابچے سے دنیا کے 7 عجائبات میں سے ایک تاج محل کا نام خارج کر دیا گیا۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق اترپردیش کے محکمہ سیاحت کی جانب سے ایک کتاب شائع کی گئی ہے جس میں ریاست میں نئے سیاحتی مقامات اور مستقبل میں شروع کیے جانے والے منصوبوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ کتاب میں بھارت کے مشہور سیاحتی مقامات کا بھی تذکرہ ہے تاہم حیران کن طور پر اس میں تاج محل کا نام شامل نہیں۔ اس کتابچے کے منظر عام پر آنے کے بعد صحافیوں، سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں نے 17 ہویں صدی کے شاہکار تاج محل کی عدم موجودگی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر یہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹوئٹر پر تاج محل کا لفظ 12 ہزار سے زائد مرتبہ لکھا جاچکا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ ہیں جن کا تعلق ہندو قوم پرست تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ ماضی میں بھی یوگی ادتیا ناتھ تاج محل کے حوالے سے متنازع بیانات دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل بھارتی ثقافت کی عکاسی نہیں کرتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتابچے میں تاج محل کا تو تذکرہ موجود نہیں تاہم گورکھ پور کے ایک مندر کا نام درج ہے جس میں یوگی ادتیا ناتھ خود پنڈت ہیں۔ اترپردیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ جس کتابچے کا تذکرہ کیا جارہا ہے وہ صرف ایک پریس کانفرنس کے لیے شائع کیا گیا تھا اور یہ سرکاری سیاحتی گائیڈ نہیں۔ یاد رہے کہ تاج محل مسلمان مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز بیگم کی یاد میں تعمیر کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

ایران پر حملے کی امریکہ میں مخالفت

ایران پر حملے کی امریکہ میں مخالفت

سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر امریکی عوام ایران کے خلاف فوجی حملے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے