مقبوضہ کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے بڑھتے واقعات، کئی مقامات پر احتجاج

مقبوضہ کشمیر: مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے گیسوں کاٹنے کے واقعات کے خلاف بڈگام اور دیگر جگہوں پر لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ دلنہ بارہمولہ، اننت ناگ بڈگام میں لوگوں نے ایک مشتبہ نوجوان کو خواتین کے بالوں کی چوٹیاں کاٹنے کی پُراسرار وارداتوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں دبوچ لیا۔ ادھر چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جنوبی مقبوضہ کشمیر کے چار اضلاع میں احتیاطی اقدامات کے طور پر موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی گئی ہیں۔ سی این ایس کے مطابق کشمیر کے مختلف علاقوں میں خواتین کے بالوں کی چوٹیاں کاٹے جانے کی مسلسل وارداتوں کے خلاف لوگ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وسطی کشمیر کے ماگام علاقے میں منگل کو مقامی آبادی نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس سلسلے میں مظاہرین نے ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا۔ مظاہرین مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔ ادھر بڈگام کے مازہامہ علاقے میں مقامی لوگوں کے بقول ایک نواجوان مشتبہ حالت میں گھوم رہا تھا۔ لوگوں نے شک ہونے پر اس سے پوچھ تاچھ کرنے کی کوشش کی تو وہ بھاگنے لگا۔ اس کا پیچھا کیا گیا اور دبوچ لیا گیا۔ بعد میں پولیس نے اس مشتبہ شخص کو اپنی تحویل میں لیکر اس سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تنازعہ کشمیر کی بدولت پورا جنوبی ایشیا ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے، مسعود خان

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصمہ شاکر کی کتاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے