پی ٹی آئی اورایم کیو ایم کا قومی اسمبلی میں نیا اپوزیشن لیڈر لانے پراتفاق

کراچی: تحریک انصاف اور ایم کیوایم پاکستان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں قومی اسمبلی میں نیا قائد حزب اختلاف لانے پر اتفاق کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستاراور دیگر رہنماؤں سے بہادرآباد میں متحدہ کے عارضی مرکز میں ملاقات کی جس میں قومی اسمبلی میں نیا قائد حزب اختلاف لانے پر اتفاق کرلیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی وفد کے ساتھ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی جب کہ پی ٹی آئی اور ایم کیوایم ارکان نے ہمیشہ قومی ایشوز پر رابطہ رکھا، بعض دفعہ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کی اور ایم کیوایم نے پی ٹی آئی کی قراردادوں کی حمایت کی جب کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہم تیسری بڑی جماعت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کا ہے اور پیپلزپارٹی کا فرینڈلی اپوزیشن کا کردار رہا ہے، پیپلزپارٹی نے مسائل پر کبھی بات نہیں کی جب کہ صوبائی اور وفاقی وسائل سے کچھ نہیں دیا اورعوامی مسائل پر سمجھوتا کیا گیا، صرف قومی اسمبلی میں ذاتی مفادات کا تحفظ کیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ میں لوٹ مار اور نا انصافیوں کا بازار گرم ہے جب کہ ملک میں بلاتفریق احتساب اور انصاف ہونا چاہئے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان سے کئی امورپرتبادلہ خیال ہوا جب کہ کسی کی ذات سےاختلاف نہیں ہے، خورشیدشاہ سے احترام کا رشتہ ہے لیکن خدشہ ہے نیا مک مکا نہ ہوجائے اور ہم اس کی نذر نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ موثر بلدیاتی نظام نہ ہو تو معاملات بہترنہیں ہوسکتے اور جب تک میئرکے اختیارات اور وسائل نہ ہوں تو اس کا فائدہ کیا جب کہ لوگوں کو ووٹ دینے کے بعد سہولیات نہ ملیں تو یہ ناانصافی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سراج الحق سے بات ہوئی ہے ان سے قربت ہے اور خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی سے تعلق برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ چوہدری شجاعت سے بھی بات ہوئی ہے ان کے پاس بھی جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے