اگر اپنے شہریوں کو کھانا دے سکتے ہیں تو پانچ سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بھی کھلا سکتے ہیں، حسینہ واجد

نیویارک: میانمار نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں تاہم ایسی صورتحال میں بنگلہ دیش نے تمام روہنگیا مسلمانوں کی خدمت کا اعلان کرتے ہوئے پوری مسلم امہ کے دل جیتے لیے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے غیر ملکی ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہو ئے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ،اس موقع پر ٹرمپ نے صرف پوچھا کہ کیسا جا رہاہے بنگلہ دیش ،میں نے جواب دیا بہت اچھا جارہاہے ،لیکن ہمیں صرف ایک مسئلہ درکارہے ،جو کہ میانمار سے آنے والے مہاجرین ہیں ،لیکن انہوں نے اس پر کوئی بات نہیں کی ۔حسینہ واجد کا کہناتھا کہ میں نے ٹرمپ سے کسی قسم کی مدد طلب نہیں کی ،وہ پہلے ہی اپنا ذہن بنا چکے ہیں اور ہم جانتے ہیں ان کی سوچ کیسی ہے ،تو پھر میں ان سے مدد کیوں مانگوں ؟۔اگر انہیں محسوس نہیں ہوتا یہ تمام لوگ پریشان ہیں ،اور وہ انتہائی کسم پرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں اس وقت مدد کی ضرور ت ہے ،جب انہیں محسوس ہی نہیں ہوتا تو میں ان سے مدد کیوں مانگوں؟ ۔ان کا کہناتھا کہ ہاں میں مانتی ہوں بنگلہ دیش کوئی امیر ملک نہیں ہے ،اس چھوٹے سے خطے میں ہماری آبادی 160ملین ہے ،اگر ہم ان لوگوں کو روزگار اور کھانا فراہم کر سکتے ہیں تو ہم ان پانچ یا سات لوگوں کو بھی کھانا دے سکتے ہیں ،ہم اپنا کھانا ان کے ساتھ شیئر کریں گے ،اور ہم اس کیلئے تیار ہیں ،اور ہمارے لوگ یہ کام پہلے ہی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت کی مقبوضہ کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش

بھارت کی مقبوضہ کشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش

سرینگر: بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا، مقبوضہ کشمیر کو فرقہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے