نئی خارجہ پالیسی پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے پر اتفاق

اسلام آباد: قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے نئی خارجہ پالیسی پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے پر اتفاق کرلیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سب سے پہلے اپنا گھر ٹھیک کیا جائے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کہتے ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور پارلیمان کی قرارداد سے امریکہ کو واضح پیغام گیا ہے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیر قانون زاہد حامد، محمود خان اچکزئی، نوید قمر، شیری رحمان، شیریں مزاری، سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خارجہ سمیت دیگر کمیٹی اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ اپنے گھر کو ٹھیک کیا جائے۔ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی میں امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ پالیسی پر بعض ارکان نے جارحانہ رویہ اختیار کرنے اور بعض نے معاملات مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں طے پایا کہ تمام فیصلے اتفاق رائے اور اجتماعی دانش کے ساتھ کئے جائیں گے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان اور کالعدم تنظیموں کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

اسلام آباد: پاکستانی میڈیا کے چار میں سے تین میڈیمز میں جو میڈیا ہاؤسز پچاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے