ہزارہ قبیلے پہ دائرہ زندگی تنگ، دہشتگردوں کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 5 افراد شہید

کوئٹہ: بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے جینے کا حق سلب کیا جارہا ہے اور تسلسل کیساتھ انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایسے ہی دہشت گردی کے ایک سانحہ میں مزید 5 شیعہ ہزارہ افراد شہید ہوگئے ہیں، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ طویل عرصے سے جاری اس نسل کشی کے ذمہ دار عناصر تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں تسلسل کیساتھ اپنی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ کاروائی کچلاک کے علاقے جلوگیر میں پیش آئی، جہاں پیٹرول پمپ پر چمن سے آنے والی بدقسمت گاڑی پٹرول بھرانے کیلئے رکی تو تکفیری دہشتگردوں نے نہتے مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جس سے گاڑی میں سوار تمام افراد شدید زخمی ہوگئے، جبکہ طبی امداد میں تاخیر کے سبب تمام افراد ہسپتال پہنچتے پہنچتے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ پہ پہنچ کے معمول کی تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں موجود چند عناصر نے مس ہینڈل کیا

ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں موجود چند عناصر نے مس ہینڈل کیا

کوئٹہ: سردار یار محمد نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کرنے والے کمیشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے