تحریک انصاف بیرونی فنڈنگ کی تفصیل دو ہفتوں کے اندر الیکشن کمیشن کو فراہم کرے، ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کو حکم دیا ہے کہ وہ بیرون ملک سے ہونے والی فنڈنگ کے ذرائع 2 ہفتوں کے اندر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل انور منصور عدالت میں پیش ہوئے۔ انور منصور نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن ناہی عدالت ہے نا ٹربیونل اور نا ہی اس کے پاس یہ حق ہے کہ وہ کسی بھی جماعت کے فنڈز کی دستاویزات دوسری پارٹی کو دینے کا حکم جاری کرسکے، اگر ایسا ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کر رہا ہے۔ وکیل انور منصور کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے یکم اپریل 2015 کے حکم پر فارن فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم ہمارا مؤقف ہے کہ یہ دستاویزات کسی دوسرے فریق کو فراہم نہ کی جائیں۔ پی ٹی آئی کے فریق اکبر ایس بابر کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ آئین کے تحت ہر سیاسی جماعت اپنے فنڈز کے ذرائع بتانے کی پابند ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی اپنے بیرونی فنڈز کی دستاویزات 2 ہفتوں میں الیکشن کمیشن کو فراہم کرے اور الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ دستاویزات پر قانون کے مطابق کارروائی کرے تاہم الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق دستاویزات اکبر ایس بابر یا کسی دوسرے غیرمتعلقہ فریق کو نہ دے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے فیصلہ عدالت کرے گی اور اگر الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے حوالے سے کسی پر اعتراض ہے تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کیلیے شناختی کارڈ کی شرط کی وضاحت جاری کردی

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کیلیے شناختی کارڈ کی شرط کی وضاحت جاری کردی

اسلام آباد: ایف بی آر کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کو قومی ٹیکس نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے