بھارت میں خوبرو دوشیزاؤں کے بال کٹنے کا پراسرار معمہ، عوام میں خوف و ہراس

بھارت کی مختلف ریاستوں میں پر اسرار طریقے سے عورتوں کے بال کٹنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور یہ معاملہ ہنوز ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ زرائع کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں میں پر اسرار طریقے سے عورتوں کے بال کٹنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے اور یہ معاملہ ہنوز ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ حادثوں کے پیچھے کیا راز ہے پولیس کو بھی اس بارے میں ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کو ئی جانکاری فراہم ہو رہی ہے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں خواتین کے بال کاٹنے کے پراسرارواقعات میں اضافہ ہورہا ہے پولیس اب تک ان واقعات میں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں ناکام ہے۔ راجھستان کے مختلف قصبوں میں نامعلوم افراد نے راہ چلتی اور گھروں میں گھس کرخواتین کے بال کاٹ دئیے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے بال کاٹنے کے واقعات میں خواتین بھی ملوث ہیں اور انہیں بیہوش کرکے نشانہ بنایا گیا، خواتین کے بال کاٹنے کے پراسرارواقعات سے خوف وہراس پھیل رہا ہے۔
نئی دہلی اور اتر پردیش میں بھی پراسرار طور پر خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات پیش آرہے ہیں، ملک کی دیگر ریاستوں سے بال کٹنے کے یہ واقعات جموں و کشمیر میں بھی رونما ہونے لگے ہیں لیکن یہاں پر بھی ان حادثات کے بارے میں یا ان کے پیچھے سازشوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں مل رہی ہے جموں کے لوگ سر کے بال کاٹنے کے روز بروز بڑھ رہے واقعات کی وجہ سے خوف زدہ ہیںتو دوسری طرف سرمائی دارالخلافہ میںقائم فورنسک سائنس لیبارٹری سر کی چوٹیاں کاٹنے کی وجوہات کا پتہ چلانے میں ناکام ہوچکی ہے۔
حالانکہ صوبہ جموں میں پولیس نے ایف ایس ایل جموں کو کاٹے گئے بالوں کے نمونے پیش کئے تاکہ ان واقعات کے درپردہ وجوہات کاپتہ چل سکے لیکن جموں کے سائنس دانوں نے اچانک بال کاٹے جانے کی وجوہات کا پتہ چلانے میںاپنی معذوری ظاہر کی۔ جموں میں اب تک سانبہ، کٹھوعہ، راجوری، ریاسی اور اودہم پور اضلاع سے بھی خواتین کے سرکے بال کاٹنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
جموں میں بال کاٹے جانے کے واقعات کی تحقیقات ابھی جاری تھی کہ وادی کشمیر اس کی زد میں آگیا اور وادی میں اس طرح کا پہلا واقعہ پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ککرناگ میں ایک اسکولی طالبہ کے بیہوشی کی حالت میں بال کٹ گئے نویں جماعت کی طالبہ اسکول سے گھر لوٹنے کے بعد بیہوش ہوگئی۔ اس کے والدین جب اس کے کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بیٹی کو نہ صرف بیہوش پایا بلکہ اس کے بال کٹے ہوئے پائے۔ متاثرہ لڑکی کو فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اور کچھ گھنٹوں تک زیر علاج رہنے کے بعد رخصت کیا گیا جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقے میں اس اسکولی طالبہ کے بال کٹنے کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں میں خوف ہراس کی لہر دوڑ گئی۔ اکثر والدین نے اپنی بچیوں کو اسکول نہ بھیجنے میں ہی عافیت سمجھی ان واقعات سے جہاں خواتین میں خوف وہراس کی لہر دوڑی ہوئی ہے، وہیں پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری اب تک اس معمے کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس اور پرسکون رہیں۔
ذرائع کے مطابق مختلف زاویوں سے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے یاد رہے چوٹی کاٹنے کا پہلا واقعہ رواں برس جون کے مہینے میں راجستھان میں سامنے آیا اور اس کے بعد ایسے واقعات ہریانہ، ہماچل پردیش ، مغربی اترپردیش اور دوسری ریاستوں سے بھی سامنے آنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں

یوکرین میں صدارتی انتخابات، معروف کامیڈین کی جیت کے امکانات روشن

یوکرین میں صدارتی انتخابات، معروف کامیڈین کی جیت کے امکانات روشن

کیو: یوکرین میں صدارتی انتخابات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں معروف کامیڈین ولودیمیر زیلنسکی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے