کوئٹہ، نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں مشرف اور انکے ساتھیوں کو بری کرنیکا فیصلہ برقرار

کوئٹہ: گذشتہ سال انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ نے 2006ء میں قتل ہونیوالے سابق گورنر و وزیراعلٰی بلوچستان نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، سابق وفاقی وزیر داخلہ و قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب احمد نوشیر وانی کو بری کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ تینوں ملزمان کے قتل کے اس مقدمے میں ٹرائل کیا جائے۔ بلوچستان ہائیکورٹ میں اس درخواست کی سماعت کئی ماہ تک جاری رہی۔ آفتاب شیر پاؤ، شعیب نوشیروانی خود اور پرویز مشرف کے وکیل اس مقدمے میں پیش ہوتے رہے، جبکہ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے سہیل راجپوٹ ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے تھے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپریل 2017ء میں فیصلہ محفوط کر لیا تھا۔ بدھ کو عدالت عالیہ کے دو رکنی نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا۔ جس میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے نامزد ملزمان کی بریت کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا اور نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی درخواست خارج کر دی گئی۔ فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ کی جانب سے ان کے موکل کی درخواست کو خارج کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ عدالت نے عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کئے اور نہ ہی دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمٰی سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں

دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی،عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہل کار شہید

دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی،عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی اہل کار شہید

عید سیکیورٹی پر مامور ایف سی جوانوں پر دہشت گردوں کا حملہ دو سپاہی شہید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے