مردم شماری نتائج پہ نظرثانی نہ ہوئی تو اسلام آباد میں دھرنا دیںگے، فاٹا اراکین پارلیمنٹ

پشاور: حالیہ مردم شماری کے نتائج پر اگر ایک طرف سندھ اور خیبر پختونخوا کے خواجہ سرائوں کے اعتراضات سامنے آئے ہیں تو دوسری جانب فاٹا کے اراکین پارلیمان نے بھی ملک میں انیس سال بعد ہونے والی مردم شماری کے نتائج کو یکسر مسترد کیا ہے۔ پشاور پریس کلب میں میڈیا کے ساتھ گفتگو میں فاٹا پارلیمنٹیرینز نے مردم شماری میں فاٹا کی آبادی 50 لاکھ ظاہر کرنے کو قبائلی عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے رجسٹرڈ آئی ڈی پیز کے اعداد و شمار سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں سات ایجنسیاں اور چھ ایف آرز ہیں جن کی اوسط آبادی اگر پانچ پانچ لاکھ بھی تصور کی جائے تو وہ 50 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو یاد دلایا کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران شمالی وزیرستان کے 10 لاکھ سے زائد آئی ڈی پیز رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ آپریشن راہ نجات کے دوران 8 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ آئی ڈی پیز کا ریکارڈ فاٹا ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے پاس موجود ہے۔ فاٹا کے اراکین پارلیمان نے وفاقی حکومت سے مردم شماری کے نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے اور وہاں مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیکورٹی پلان مرتب

صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لیے سیکورٹی پلان مرتب

پشاور: پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 20 جولائی کو ضلع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے