پاکستان امریکہ کا نہیں، امریکہ پاکستان کا محتاج ہے، سابق سی آئی اے سربراہ

واشنگٹن: امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کرکے اس پر دبائو نہیں ڈالا جا سکتا، امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہوگا، البتہ اس سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، پاکستان نہیں بلکہ امریکہ پاکستان کا محتاج ہے، چین جیسے دوست کی امداد پاکستان کو حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کا محتاج ہے، جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔

ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہو چکی ہے، ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں، نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہوگا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردار کی بھی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کیلئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، طالبان کے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا، طالبان کی جنگ نظریاتی ہے، امریکہ کیلئے ایران اور روس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ پاکستان کو آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے، چین پاکستان کی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے، ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کرکے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا، واحد حل سیاسی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

واضح اکثریت کے, ساتھ, آئینی تبدیلی کو, منظور کیا

واضح اکثریت کے ساتھ آئینی تبدیلی کو منظور کیا

مصر: آئینی ترمیم کے لیے گزشتہ تین روز سے جاری ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے