میں نے آئی ایس آئی کیساتھ بہت کام کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ۔۔۔ امریکی صدر کو اپنی ہی فوج کے سابق سربراہ نے جواب دیدیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز افغانستان سے متعلق اپنی حکمت عملی کا اعلان کیا لیکن حیران کن طورپر وہ اس دوران پاکستان پر برس پڑے اور روایتی طورپر الزام تراشیاں کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اربوں ڈالردیتے ہیں لیکن دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پر اب خاموش نہیں رہیں گے لیکن افغانستان میں امریکی فوج کے سابق چیف اور سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈپیٹرسن کا خیال امریکی صدر سے مختلف ہے اور انہوں نے آئی ایس آئی کے دہشتگردوں سے تعاون کی سختی سے تردید کردی۔

اپنے ایک انٹرویو میں جنرل ڈیوڈ پیٹرسن نے کہاکہ ’میںکچھ صحافیوں کی طرح اس بات کا کبھی قائل نہیں ہوا کہ انٹرسروسز انٹیلی جنس( آئی ایس آئی) کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہیں، میں جب سی آئی اے کا ڈائریکٹر تھا یا جب میں افغانستان میں تھا توآئی ایس آئی کیساتھ ہمارا تعلق رہتاتھا،جب میں آرمی چیف بھی تھا تو ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جیسے کہ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں، یہ بہت مشکل صورتحال ہے ۔گزشتہ سال دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ان گروپوں اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتالیکن اگرآپ کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں ہیں تو آپ کو ایسا کرنا بھی پڑسکتاہے ۔ویڈیو دیکھئے

یہ بھی پڑھیں

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

تہران: امریکا کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے کے صدر ٹرمپ کے دعوے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے