مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان کا یوم آزادی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستان کا یوم آزادی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔ کشمیری عوام  قابض بھارتی فوج کے تمام تر مظالم اور پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جشن آزادی منارہے ہیں۔ وادی کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے سبز ہلالی پرچم لہرائے اور پاکستان زندہ باد، بھارت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ کئی مقامات پر آزادی کے متوالوں نے جان پر کھیل کر پاکستانی پرچم بلند کیے اور سلامی دی۔ اس موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے موران چوک میں بچوں نے بھارت کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے 14 اگست کی پریڈ کی جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ بھارتی پولیس نے ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے متعدد افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے متعدد علاقوں میں یوم آزادی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جہاں شرکا کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضہ اور پاکستان سے الحاق کی دیرینہ خواہش کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا گیا۔ کل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

خواتین کی تنظیم دختران ملت نے بھی یوم آزادی کی تقریب کا اہتمام کیا۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ کئی مقامات پر متعدد تقاریب منعقد ہوئیں جن میں پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لیے خصوصی دعائییں کی گئیں اور قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔

ضلع بڈگام کے علاقے شادورا میں حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر محمد یسین ایٹو عرف کمانڈر غزنوی کے نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نمازیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ چار بار نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ بچے، بڑے، خواتین ہر شخص حریت پسند کمانڈر کے آخری دیدار کے لیے امڈ آیا۔

کمانڈر غزنوی گزشتہ روز شوپیاں میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگئے تھے۔ پولیس نے کشمیری رہنما محمد یسین ملک کو جنازہ میں شرکت کرنے سے روک کر گرفتار کرلیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پچھلے سال 14 اگست کو کمانڈر غزنوی دیگر عسکریت پسند کمانڈرز کے ہمراہ سبز کپڑے پہن کر کلگام میں نکالی گئی ایک بڑی ریلی میں شریک ہوئے تھے اور عوام سے خطاب کیا تھا۔  حزب المجاہدین نے کمانڈر غزنوی کی شہادت کے بعد محمد بن قاسم نامی مجاہد کو وادی میں اپنا نیا کمانڈر بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر ضلع بڈگام کے علاقے ماگام میں بھارتی فورس ’’سی آر پی ایف‘‘ پر دستی بم حملے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کے حامی تھے لیکن بھارت نے اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا جسے کشمیری عوام نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ 70 سال سے جاری جدوجہد آزادی میں ہزاروں کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 94 ہزار 767 افراد شہید اور لاکھوں زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تنازعہ کشمیر کی بدولت پورا جنوبی ایشیا ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے، مسعود خان

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصمہ شاکر کی کتاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے