امریکی پابندیاں جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہیں، ایران

تہران: امریکا کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور ایران اس کا جواب دے گا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ڈپٹی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں کہا ‘ہمارا ماننا ہے کہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی اور ہم اس پر اپنا ردعمل ظاہر کریں گے’۔

عباس عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد نئی پابندیوں کو قانون میں تبدیل کرنے کے بعد سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم یقینی طور پر امریکی پالیسی اور ٹرمپ کے جال میں نہیں پھنسیں گے اور سوچ بچار کے بعد پر اس پر ردعمل ظاہر کیا جائے گا’۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے 2 اگست کو ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی پابندیوں پر دستخط کیا ہے جس کی زد میں روس اور شمالی کوریا بھی آئیں گے۔ ان پابندیوں کا نشانہ ایران کا میزائل پروگرام اور 2015 کے جوہری معاہدے میں شامل نہ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی بنیں گی۔ تاہم ایران کا کہنا ہے امریکا کا یہ اقدام معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

ڈرون گرانے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ہے، ایران نے ویڈیو جاری کردی

تہران: امریکا کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے کے صدر ٹرمپ کے دعوے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے