میاں صاحب جانے دو ۔۔۔ شہباز شریف کو آنے دو

لاہور کے مختلف علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی حمایت میں بینرز آویزاں کردیئے، جنہیں بعد ازاں مقامی انتظامیہ نے ہٹا دیا۔ صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے بینرز پر ’میاں صاحب جانے دو شہباز شریف کو آنے دو‘ کے نعرے درج تھے۔

اس کے علاوہ لاہور میں پریس کلب کے اطراف میں بھی اسے ہی بینرز لگائے گئے تھے جن پر ’’جانے دو جانے دو، میاں صاحب جانے دو اور آنے دو آنے دو، میاں شہباز شریف کو آنے دو‘‘ کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔

ان بینرز پر نعروں کے علاوہ ان کے خالق افراد کے نام درج تھے جبکہ ان بینرز کو این جی او پاکستان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے میڈیا میں مذکورہ بینرز کی نشر ہونے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کی، جس پر عمل درآمد کرتے مقامی انتظامیہ نے مذکورہ بینرز ہٹا دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بیساکھیوں کے ذریعے ایوان اقتدار کے راستے ڈھونڈنے والوں کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف بیس کروڑ عوام کے دلوں میں بستے ہیں، عوام کے مقبول ترین اور مخلص لیڈر پر الزامات لگانے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مسترد شدہ عناصر آئندہ الیکشن میں اپنی شکست کے ڈر سے بوکھلاگئے ہیں، آئندہ انتخابات میں عوام ترقی کے مخالفین کو ایک بار پھر مسترد کریں گے اور امانت، دیانت، شرافت اور خدمت کی سیاست کرنے والوں کی جیت ہوگی۔

ادھر ڈان نیوز ڈاٹ کام نے مذکورہ بینرز پر صوبائی حکومت کا رد عمل لینے کے لیے پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ دستیاب نہ ہوسکے۔

دوسری جانب ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ بینرز کے خالق حافظ طارق نے بتایا کہ انہوں نے یہ بینرز حال ہی میں عوام میں مقبول ہونے والے مطالبے کی عکاسی کرنے کے لیے لگائے تھے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ مسلم لیگ (ن) کے مقامی کارکن ہیں اور ’یہ بینرز عوامی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ان میں کوئی تو صداقت ہے جبکہ انہیں نواز شریف کی قیادت پر پورا اعتماد ہے تاہم اب انہیں اقتدار سے الگ ہو کر وزارت عظمیٰ کا منصب میاں شہباز شریف کو دے دینا چاہیے۔

حافظ طارق سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے کن لوگوں کے کہنے پر بینرز لگائے ہیں؟ اور آیا پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں؟ جس پر حافظ طارق نے بتایا کہ مسلم لیگ میں اندرونی طور پر کشیدگی موجود نہیں ہے تاہم یہ بینرز پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے لگائے تھے اور یہ کارکنوں کی رائے کے عکاس ہیں۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں شہباز شریف کے حق میں لگائے گئے بینرز کے خالق حافظ طارق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف نے صوبے میں بہتر ترقیاتی کام کرائے ہیں اور موجودہ صورت حال میں وہ ایک بہتر لیڈر ہیں۔

مذکورہ بینرز کو ہٹانے پر حافظ طارق کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بڑے بھائی کے احترام میں یہ بینرز ہٹائے ہوں گے ورنہ ہر کارکن کا یہی مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعظم کا منصب دے دیا جائے۔

ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی نے بینرز پر موجود دوسرے فرد قیصر رضا سے فون پر رابطے کی کوشش کی تاہم وہ دستیاب نہ ہوسکے۔

خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے شریف خاندان کے اثاثوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کردی ہے اور عدالت نے اس پر اپنا فیصلہ محفوظ کررکھا ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں اندرونی اختلافات کی خبریں بھی میڈیا کی شہہ سرخیوں کی زینت بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اپوزیشن اپنا تعمیری کردار ادا نہیں کر رہی

اپوزیشن اپنا تعمیری کردار ادا نہیں کر رہی

لاہور: راجہ بشارت نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا اسپیکر کا اختیار ہے جن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے