بلوچستان کی منتخب سیاسی جماعتیں نواز شریف کو غیر جمہوری طریقے سے ہٹانے کی اجازت نہیں دینگی، نواب ثناء اللہ زہری

کوئٹہ: وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بدنیتی پر مبنی رپورٹ تیار کی۔ کسی سازش کے تحت منتخب حکومت یا وزیراعظم کو ہٹایا گیا تو ملک کے مستقل پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ بلوچستان کی جمہوری قوتیں، سیاسی جماعتیں، عوام اور حکومت منتخب وزیراعظم کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ امن دشمنوں کے خلاف فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ پہلے کالعدم تنظیموں کا نام لیتے ہوئے لوگ خوف محسوس کرتے تھے، مگر اب ایسا نہیں۔ خیبر فور آپریشن دہشت گردوں کے تابوت میں آخری کھیل ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں، صرف نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس کا مقصد جے آئی ٹی رپورٹ پر صوبائی حکومت میں شامل جماعتوں کے مؤقف سے آگاہ کرنا ہے۔ بلوچستان حکومت میں شامل تمام جماعتیں سیاسی و جمہوری قوتیں اور عوام وزیراعظم کی جانب سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اعتراضات کو برحق مانتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو عدالت عظمٰی سے ضرور انصاف ملے گا۔ ہم تمام اداروں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور روز اول سے ہی اداروں کے درمیان ٹکراؤ کے خلاف ہے۔ تاہم بعض عناصر کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی فضاء بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا یہ رویہ ملک، جمہوریت، جمہوری اداروں اور عدلیہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور ان کا غلط استعمال کیا۔

وزیراعلٰی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ 2013ء سے قبل جب عوام نے نون لیگ اور اس کے اتحادیوں کو مینڈیٹ دیا تو اس وقت ملک اور صوبے میں اقتصادی اور امن و امان کے حالات ابتر تھے۔ کوئٹہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ یہاں 100/100 لاشیں پڑی ہوتی تھی۔ لیکن کسی کو اس کا خیال نہ تھا۔ موجودہ حکومت نے آپریشن ضرب عضب، آپریشن رد الفساد اور خیبر فور سمیت دیگر آپریشنز کے ذریعے امن وامان کی صورتحال میں بہتری کرکے دکھائی۔ اسی لئے تو سی پیک کے عظیم الشان منصوبے پر کام کا آغاز ہوا۔ بلوچستان کی عوام کے منتخب نمائندے عوام کی آواز بن کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان غیر جمہوری اقدامات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسپلینجی کے علاقے میں تین دن تک فورسز بے جگری سے لڑیں اور انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود بھی اسپلنجی کے پہاڑوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ پہلے جب دہشت گردی کے واقعات ہوتے تو کہا جاتا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا۔ بعد میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے بات کو ختم کر دیا جاتا۔ موجودہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف دفاعی پوزیشن میں نہیں، بلکہ ان کے خلاف فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ ہم نے کبھی بھی امن و امان کے حوالے سے آنکھیں بند نہیں کیں۔ خیبر فور آپریشن دہشت گردوں کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ دہشتگردوں کی کوشش ہے کہ یہاں لسانی، فرقہ وارانہ اور دیگر بنیادوں پر عوام کے درمیان نفرتیں پھیلائیں۔ تاہم ایسا نہیں ہونے دیا جائیگا، بلکہ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔

یہ بھی پڑھیں

ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں موجود چند عناصر نے مس ہینڈل کیا

ماضی کی وفاقی اور صوبائی حکومت میں موجود چند عناصر نے مس ہینڈل کیا

کوئٹہ: سردار یار محمد نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کرنے والے کمیشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے