نواز شریف نے اپنی چوری بچانے کے لئے دوسروں کو کرپشن کا موقع دیا، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ملکی ادارے تباہ کئے اور ہمیشہ اپنی چوری بچانے کے لئے دوسروں کو کرپشن کا موقع فراہم کیا۔ کہوٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم سچے اور ایماندار لیڈر تھے، ان کے ایک عظیم خواب کا نام پاکستان ہے، اس ملک کو دنیا میں اسلامی فلاحی ریاست بن کر مثال بننا تھا لیکن آج پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا میں عزت نہیں کی جاتی ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ایک چھوٹا طبقہ امیرہوتا جارہا ہےاورعوام غریب ہوتے جارہے ہیں قرض لے کر بوجھ مہنگائی کی صورت میں عوام پر ڈالا جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب حکمران کرپٹ ہوتے ہیں تو ادارے اور ملک تباہ ہوتا ہے، ہر سال ایک ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں کوئی کرپٹ کسی چور کو نہیں پکڑ سکتا، کرپشن کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ ہمارے ساتھ کے کئی ممالک آج پاکستان سے اوپر جا چکے ہیں۔

چئیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کا گزشتہ 30 سال سے احتساب ہورہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، نوازشریف کا 30 سال سے احتساب ہوا ہی نہیں، نوازشریف نے ملک کےادارے تباہ کیے خود بھی چوری کی اوردوسروں کو بھی موقع دیا یہ ایک مافیا ہےجو لوگوں کوخریدتا ہے یا انتقام کے لئے راستے سے ہٹا دیتا ہے اپنی چوری بچانےکے لئےدوسروں کو کرپشن کا موقع دیا جاتا ہے نوازشریف نے ہمیشہ لوگوں کو خریدا اور ڈاکوؤں سے مک مکا کیا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے انصاف خریدا اور اداروں پر دباؤ ڈالا لیکن تحریک انصاف عدالتوں کے ساتھ کھڑی ہے اور میں جے آئی ٹی کے ممبران کو پاکستان کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں جس نے وہ کام کیا جسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھولے گی جے آئی ٹی میں جو چیزیں سامنے آئیں اگر نوازشریف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شرم سے ڈوب جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان تب بنے گا جب چوروں کو پکڑا جائے گا آنےوالا ہفتہ پاکستان کی تاریخ کے لئے اہم ہوگا اور ہمیں آئندہ ہفتے ایک نیا پاکستان نظر آرہا ہے ہم سب اسلام آباد آئیں گے اور خوشیاں منائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے پر خصوصہ روشنی ڈالی

اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے پر خصوصہ روشنی ڈالی

اسلام آباد: بلوچستان میں تقریباً 30 فیصد گھرانے فاقے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے