وفاقی کابینہ کا اجلاس، وزیر اعظم نواز شریف کا مستعفی نہ ہونیکا اعلان

اسلام آباد: وزیر اعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ہونے والے استعفے کے مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جمہوریت فروش سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں؟۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے اپوزیشن کے مطالبے پر مستعفی نہ ہونے کا دو ٹوک اعلان کیا۔ وزیراعظم کے مستعفی نہ ہونے کے دوٹوک اعلان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا اور کابینہ کے ارکان نے ڈیسک بجا کر فیصلے کی توثیق کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے عام انتخابات میں استعفے کا مطالبہ کرنے والے کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ لیے۔ یہاں اربوں روپے کے منصوبے لگ رہے ہیں لیکن کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی، اگر ہم نے کہیں کرپشن کی ہے تو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کو تحفظات کے ساتھ قبول کیا اور خود سمیت پورے خاندان کو اس کے روبرو پیش کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1937ء سے ہمارا آبائی کاروبار ہے لیکن جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے ذاتی کاروبار کے بارے میں مفروضوں، الزامات اور بہتانوں کا مجموعہ ہے، ہمارے خاندان نے سیاست سے کچھ نہیں کمایا البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے جسے جلد بےنقاب کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 1985ء سے لے کر آج تک 32 سالوں کے دوران ایک پیسے کی خورد برد بھی کی ہو تو بتاو، تم تو یہ الزام تک بھی نہیں لا سکتے۔ وقت آنے پر سب راز کھل جائیں گے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی کے سفر کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، پاکستان ماضی میں ان تماشوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے، یہ سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

راولپنڈی: مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے