حکومت دباؤ کے ذریعے من پسند فیصلہ حاصل کرنا چاہتی ہے، سراج الحق

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکمران اپنے وسائل اور اثرورسوخ استعمال کرکے عدالتوں پردباؤ ڈال رہی ہے اور من پسند فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کے حوالے سے ہرشخص اپنی خواہشات کے گھوڑے پر سوار اور ہرکوئی اپنے من پسند فیصلے کا منتظر ہے لیکن ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے ہرپہلو کا احاطہ کیا اور ہر بات کا نوٹس لے رہی ہے،  آج ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوئی کہ حکمران تمام حکومتی وسائل اوراثرورسوخ استعمال کرکے اداروں اور عدالتوں کو دباؤ میں لارہی ہے اور اسی دباؤ کے ذریعے من پسند فیصلے حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہمیں اپنی عدالتوں اور اداروں پر مکمل یقین ہے کہ حکمران اپنی منفی کوشش میں ناکام ہوں گے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ پورا نظام ہی مسخ شدہ ہے اداروں کو ناکام اور مفلوج بنا دیئے گئے ہیں 70 سال سے دیکھا جارہا ہے کہ بااثر طبقوں نے عدالتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، طاقتور عدالتی نظام عوام کے حق میں کردیا گیا جب کہ کمزور عدالتی نظام بااثر افراد کے حق میں ہے ایک مجبور اور مظلوم عوام کے لئے  طاقتور عدالتی نظام نہایت ضروری ہے  یہ ایک سنہری موقع ہے اللہ نےعوام کو ایک موقع دیا ہے کہ عوام کو انصاف مل جائے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں کسی فرد کو بھی ہمارا آئین اور قانون بادشاہ بننے کی اجازت نہیں دیتا ہم انصاف کی امید پر یہاں کھڑے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ پاناما اسکینڈل ہوائی فائرنگ ثابت نہیں ہوگا بلکہ اب کرپشن اور کرپٹ سسٹم کا خاتمہ ہوگا اور بہت جلد کرپشن میں ملوث بااثر افراد جیل میں ہوں گے۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے اشتہارات کو بھی سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا عدالت سرکاری اشتہارات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کا حکم دے تاکہ ہمارے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور صحافی طبقہ حقائق اور سچائی کو بیان کرنے میں ہاتھ نہ روکیں۔

یہ بھی پڑھیں

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

راولپنڈی: مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے