جے آئی ٹی نے سمن کا جمعہ بازار لگایا ہوا ہے، ہمیں الزام تو بتائے، حسن نواز

اسلام آباد: وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہمیں جے آئی ٹی میں بلایا جارہا ہے تاہم 100 دفعہ بلائیں گے ہم آئیں گے لیکن جھوٹ جھوٹ رہے گا اور سچ سچ۔ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے تیسری مرتبہ پیش ہوئے۔ اس موقع پر جے آئی ٹی نے حسن نواز سے لندن میں ان کے اثاثوں اور کمپنیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسن نواز کا کہنا تھا کہ سارے دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دیے ہیں اور یہ دستاویزات پہلے ہی سپریم کورٹ میں بھی جمع کراچکا ہوں، میں نے جے آئی ٹی سے ایک سوال پوچھا ہے کہ میرا کیا قصور ہے کہ جو مجھے بلا کر 5، 5 گھنٹے تفتیش کی جارہی ہے، شریف فیملی کے ہر فرد کو بار بار بلایا جارہا ہے، ہر ایک کو سمن جاری کیے جارہے ہیں جب کہ سمن کا جمعہ بازار لگایا ہو اہے لہذا کم از کم ہمیں الزام بھی بتا دیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے الزام لگتا ہے اور پھر تحقیقات ہوتی ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور اب الزام ڈھونڈا جارہا ہے تاہم کوئی موٹر سائیکل ہی چوری کرنے کا الزام لگا دیں۔ حسن نواز نے کہا کہ ہم سب بتائیں گے، وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی جو مانگتی ہے دے دو، جو پوچھتے ہیں بتائیں گے لیکن ہمارا حق ہے کہ ہمیں ہمارا قصور بھی بتایا جائے، بتایا جائے کہ ہم پر الزام کیا ہے، نواز شریف پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بچوں کو بلایا جارہا ہے تاہم 100 دفعہ بلائیں گے ہم آئیں گے لیکن جھوٹ جھوٹ رہے گا اور سچ سچ۔ دوسری جانب جے آئی ٹی نے آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی طلب کیا ہے جہاں وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے، جے آئی ٹی نے پہلی بار وزیر خزانہ کو تفتیش کے لیے طلب کیا ہے جب کہ مریم نواز بھی 5 جولائی کو پہلی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے یہ تیسری پیشی تھی جب کہ اس سے قبل حسن نواز کے بڑے بھائی حسین نواز بھی جے آئی ٹی کے سامنے 5 بار پیش ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سِی پیک سے, خصوصی پروگرامز, کے, تین ارب کم کر, دیئے گئے

سِی پیک سے خصوصی پروگرامز کے تین ارب کم کر دیئے گئے

اسلام آباد: رضا ربانی نے سی پیک پروگرامز کیلئے خصوصی اقدامات کے 27 ارب میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے