جان مکین کی سربراہی میں امریکی سینیٹرز کے وفد کی مشیر خارجہ سے ملاقات

اسلام آباد: امریکی سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان کا دیرپا حل ممکن نہیں ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ امریکی سینٹرز کا 5 رکنی وفد سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں اسلام آباد میں موجود ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے وفد کا استقبال کیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور امریکی سینٹرز کے درمیان خطے کی صورت حال پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، افغانستان اور مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی حکام نے امریکی سینٹرز کو خطے کی سکیورٹی کی صورت حال اور دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ امریکہ کے بھارت کی جانب جھکاؤ پر بھی پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر امریکی حکام کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پاکستان نے افغان سرزمین پر داعش کی موجودگی پر بھی امریکی حکام سے گفتگو کی۔ اس موقع پر جان مکین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر سال پاکستان کا دورہ کرتا ہوں ، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں ۔پاک امریکہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔امریکہ کی کشمیر سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے امریکا مسئلہ کشمیر کا حل پر امن اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتاہے اور امریکا کشمیر پالیسی کو جاری رکھے گا۔ جان مکین کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کا کردار اہم ہے، پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں قیام امن ممکن نہیں۔ امریکی وفد میں جان مکین کے علاوہ لنڈسے گراہم، شیلڈن وائٹ ہائوس، الزبتھ وارن اور ڈیوڈ پرڈیو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بیان کومتنازع بناکرپیش, کرناکسی, طور پر, پاکستان کی, خدمت نہیں

بیان کومتنازع بناکرپیش کرناکسی طور پر پاکستان کی خدمت نہیں

اسلام آباد: وزیراعظم کی جانب سے ایران میں بیان پر وزیراعظم آفس کی وضاحت سامنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے