پاراچنار دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے ایم ڈبلیو ایم کراچی کا احتجاجی علامتی دھرنا

کراچی: سانحہ پاراچنار کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر کراچی میں احتجاجی علامتی دھرنا دیا گیا۔ عید کے دوسرے روز نمائش چورنگی پر مرکزی علامتی دھرنے میں ملت تشیع کی کثیر تعداد شریک تھی اور پاراچنار میں انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ کراچی دھرنے میں پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی اور راشد ربانی، ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی، رکن صوبائی اسمبلی قمر عباس رضوی، کامران ٹیسوری، تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی، پاک سرزمین پارٹی کے رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر اور وسیم آفتاب سمیت مختلف دیگر سیاسی و مذہبی شخصیات و رہنماوں نے اظہار یکجہتی کیا اور سانحہ پاراچنار پر ایم ڈبلیو ایم کے موقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاراچنار کے معاملے اور دکھ کی اس گھڑی میں وہ پاراچنار کی عوام اور ایم ڈبلیو ایم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

کراچی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی سمیت دیگر علماء کرام و رہنماوں نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات میں پاراچنار وہ واحد علاقہ ہے، جہاں سے وطن عزیز اور افواج پاکستان کے حق میں ہمیشہ آواز بلند ہوتی رہی ہے، یہ علاقہ پورے ملک کا فطری دفاع ہے، ان کی ہر حال حفاظت کرنا ہوگی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو پاراچنار کے عوام کا مکمل ساتھ دینا چاہیئے، ان لوگوں کو دانستہ طور پر ریاستی جبر کا شکار بنایا جا رہا ہے تاکہ ان سے ان کی حب الوطنی چھینی جا سکے، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداء کے لواحقین سے احتجاج کا بنیادی حق سلب کیا جا رہا ہے، اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں پر ریاستی اداروں کی طرف سے گولیاں برسائی جانا اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاراچنار کے مظلومین کی آواز کو دبانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، پاراچنار کی انتظامی تبدیلی اور سیکورٹی کے حوالے سے اہل پاراچنار کے مطالبات پورے ہونے چاہیئے، اس سیکورٹی عملے کے خلاف کاروائی کی جائے جن کی غفلت کے باعث اتنا المناک سانحہ رونما ہوا، پاراچنار کے شہداء کو ملک کے دیگر حصوں کے شہداء سے کسی طور کم نہ سمجھا جائے، ایک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے حکومت کی طرف سے بیس لاکھ روپے فی کس جبکہ پاراچنار کے شہدا کے لئے محض دو لاکھ کا اعلان شہداء کی تضحیک ہے، اس تفریق کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، پاراچنار کا واقعہ بہت بڑا ظلم ہے، وہاں کے باسیوں کا استحصال تسلسل کے ساتھ جاری ہے، پاراچنار کا حالیہ واقعہ کوئی معمولی نہیں، ان غم ناک ایام کو ہم عید کا نام نہیں دے سکتے۔

درایں اثنا کراچی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے کہا کہ پاراچنار میں ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ وطن عزیز کی سالمیت پر حملہ ہے، پاراچنار کی عوام کے مطالبات ہمارے مطالبات ہیں، جن کی منظوری کے لئے ملک گیر حمایت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارا چنار میں سیکورٹی کے اختیارات ایف سی سے واپس لے کر لوکل سطح پر ملیشیا کو دیئے جائیں، پاراچنار شہداء کے لواحقین کو معاوضے دیئے جائیں۔ کراچی دھرنے میں علامہ مرزا یوسف حسیں، علامہ نثار قلندری، علامہ مبشر حسن، علامہ علی انور، علامہ اظہر نقوی، علامہ صادق رضا، علی حسین نقوی، میثم عابدی، علامہ صادق جعفری، علامہ سجاد شبیر رضوی اور آئی ایس او کراچی کے صدر علی اویس نے بھی خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

30 ستمبر کو سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں چیئرمینز کے عہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے

کراچی: چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے