ملک بھر میں جمعۃ الوداع یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے، علامہ باقر زیدی

کراچی: دنیا بھر کے مسلمان حضرت امام خمینی کے فرمان کے مطابق قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ’’عالمی یوم القدس‘‘ مناتے ہیں، بیت المقدس وہ مقام ہے کہ جہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کے قدم مبارک تشریف لائے ہیں، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج یہی مقام یعنی قبلہ اول بیت المقدس مسلسل صیہونی شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے، فلسطین پر امریکی و برطانوی سامراج کی سرپرستی میں سنہ 1948ء میں ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا، سنہ 1967ء میں قبلہ اول کو صیہونیوں نے اپنے شکنجہ میں لیا اور یہاں تک کہ سنہ 1969ء میں اسی بیت المقدس کو صیہونیوں نے نذرآتش کرنے کی گھناؤنی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں بیت المقدس کو شدید نقصان پہنچا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں علامہ باقر عباس زیدی، مولانا صادق جعفری، علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، میر تقی ظفر، علامہ علی انور جعفری سمیت دیگر رہنماوں نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ صیہونیوں کے مظالم کی تاریخ ستر سال سے بھی زائد کی ہے آج پوری دنیا میں مسلمان اس دن یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس مناتے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اور غاصب و جعلی ریاست اسرائیل کے جرائم کے خلاف اس سال جمعۃ الوداع یوم القدس ستائیس رمضان کو منایا جائے گا اور ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر القدس ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ مرکزی القدس ریلی کراچی اور اسلام آباد میں نکالی جائے گی، ہم پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول بیت المقدس پر صیہونی غاصبانی تسلط کے خلاف موقف پیش کریں اور فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان کریں، ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ یوم القدس کی تقریبات کو سرکاری سطح پر منعقد کیا جائے اور ملک بھر میں جمعۃ الوداع یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور میں امریکی سرپرستی میں عرب دنیا کے حکمران فلسطین کاز کا سودا کرنے میں سرگرم عمل ہیں، جس کی واضح مثال مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکا کی دعوت اور پھر فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دینا واضح طور پر اشارہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے امریکی ایماء پر فلسطین کاز کو فراموش کرنے کی گھناؤنی سازش تیار کرلی ہے، تاہم ایسے حالات میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے افکار و نظریات کے مطابق مسئلہ فلسطین پر اپنا موقف پیش کرے اور فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کا کھل کر اعلان کیا جائے۔

علامہ باقر عباس زیدی کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان بھر کے عوام، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں سے ابھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ یوم القدس کے اجتماعات میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں، پاکستان بھر کے تمام آئمہ جمعہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ جمعۃ الوداع کو نماز جمعہ کے اجتماعات میں قبلہ اول پر صیہونی غاصبانہ تسلط کے خلاف آواز بلند کریں اور بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کی کھل کر حمایت کا اعلان کریں، ہم صحافی برادری اور کالم نگاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے زور قلم سے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور پاکستان کے عوام تک حقائق پہنچائیں کہ کس طرح آج عالمی سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے لئے مسلم امہ کے درمیان تفریق اور نفرت کو ایجاد کر رہی ہیں، جس کی ایک واضح مثال عرب ممالک کے قطر کے خلاف کئے گئے اقدامات ہیں، امریکی ایماء پر عرب ممالک نے قطر کا اس لئے بائیکاٹ کیا ہے کہ قطر نے فلسطین کاز کے لئے سرگرم عمل آزادی کی مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت کی ہے، جبکہ امریکا اور اس کے دیگر عرب دوست ممالک فلسطینیوں کی مزاحمتی اسلامی تحریکوں بشمول حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی کو دہشت گرد قرا ر دے کر مسئلہ فلسطین سے پوری دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حماس سمیت حزب اللہ اور جہاد اسلامی روز اول سے ہی غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف نبردآزما ہیں اور مظلوم اور نہتے فلسطینیوں اور قبلہ اول کا دفاع کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ڈاکٹر جمیل جالبی نامور, اردو نقاد، ماہرِ لسانیات, اور ادبی, مؤرخ, تھے

ڈاکٹر جمیل جالبی نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات اور ادبی مؤرخ تھے

کراچی: ممتاز ادیب، محقق، دانشور اور استاد ڈاکٹر جمیل جالبی انتقال کرگئے ڈاکٹر جمیل جالبی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے