وہ شہر جہاں گرمی اتنی بڑھ گئی کہ جہاز اُڑانا ناممکن ہوگیا، پروازیں منسوخ کردی گئیں

نیویارک: موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہر موسم گرما میں گزشتہ سال کی نسبت گرمی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور اس سال بھی یہ اپنے سابق ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ گرمی کی شدت انسانوں اور جانوروں کو تو ہلکان کرتی تھی اب اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ ہوائی جہازوں کی پرواز میں بھی رکاوٹ بننے لگی ہے۔ آپ یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فوئنکس سے جانے والی درجنوں پروازیں گرمی کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی ہیں کیونکہ طیارے گرمی کے باعث اڑان ہی نہیں بھر پا رہے۔

 

رپورٹ کے مطابق فوئنکس کے ’سکائی ہاربر انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ پر ’بمبارڈیئر سی آر جے طیارے‘ مقامی پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ 118ڈگری درجہ حرارت پر پرواز کر سکتے ہیں لیکن وہاں اب درجہ حرارت 120ڈگری تک جا چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرمی کے باعث ہوا کا وزن کم ہو جاتا ہے اور طیاروں کو اڑنے کے لیے رن وے پر اضافی تیزرفتاری کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن رن وے کی لمبائی اتنی طویل نہیں ہوتی کہ طیارے اتنی زیادہ رفتار پکڑنے تک اس پر دوڑ سکیں۔ لہٰذا امریکی ایئرلائنز نے اس ایئرپورٹ سے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں اور مسافروں کو سیٹوں کی دوبارہ بکنگ یا ری فنڈ لینے کی ہدایت کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

ماسکو: روس اور چین نے امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے